Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2015 (سنن أبي داود)

[2015]صحیح

صححہ ابن خزیمۃ (2774 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (2658)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَہُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَی رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَہُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَہَلَكَ

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوا۔لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تھے،تو جس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے یا کوئی کام پہلے کر لیا ہے یا کوئی مؤخر کر دیا ہے۔تو آپ ﷺ فرماتے تھے ’’کوئی حرج نہیں،کوئی حرج نہیں۔مگر جو کوئی ظلم کرتے ہوئے کسی مسلمان کی عزت کو کاٹے (غیبت کرے یا طعن و تشنیع وغیرہ) تو وہ حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔‘‘