Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2016 (سنن أبي داود)

[2016] إسنادہ ضعیف

نسائی (759،2962) ابن ماجہ (2958)

کثیر لم یسمع من أبیہ بدلیل روایۃ سفیان،بینھما مجہول

انوار الصحیفہ ص 77

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وِدَاعَةَ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ رَأَی النَّبِيَّ ﷺ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَہْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْہِ وَلَيْسَ بَيْنَہُمَا سُتْرَةٌ قَالَ سُفْيَانُ لَيْسَ بَيْنَہُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ قَالَ سُفْيَانُ كَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْہُ قَالَ أَخْبَرَنَا كُثَيْرٌ عَنْ أَبِيہِ قَالَ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُہُ وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَہْلِي عَنْ جَدِّي

کثیر بن کثیر کے دادا (سیدنا مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو (مسجد الحرام میں) باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا جب کہ لوگ آپ ﷺ کے آگے سے گزر رہے تھے اور ان کے درمیان (رسول اللہ ﷺ اور کعبہ کے مابین) سترہ نہیں تھا۔سفیان نے بصراحت کہا ((لیس بینہ وبین الکعبۃ سترۃ *** )) سفیان کہتے ہیں کہ ابن جریج نے اس کی سند میں یوں بیان کیا تھا ((أخبرنا کثیر ،عن أبیہ)) یعنی کثیر نے اپنے والد سے بیان کیا،پھر میں نے ان سے (براہ راست) پوچھا تو کہا،میں نے یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ گھر کے کسی دوسرے فرد سے سنی تھی اور اس نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔