Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2017 (سنن أبي داود)

[2017]صحیح

صحیح بخاری (2434) صحیح مسلم (1355)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللہُ تَعَالَی عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِيہِمْ فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنَی عَلَيْہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللہَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ النَّہَارِ ثُمَّ ہِيَ حَرَامٌ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُہَا وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ فَقَالَ عَبَّاسٌ أَوْ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللہِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَّا الْإِذْخِرَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَزَادَنَا فِيہِ ابْنُ الْمُصَفَّی عَنْ الْوَلِيدِ فَقَامَ أَبُو شَاہٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ اكْتُبُوا لِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاہٍ قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُہُ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاہٍ قَالَ ہَذِہِ الْخُطْبَةُ الَّتِي سَمِعَہَا مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول اللہ ﷺ کے لیے مکہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ ان (اہل مکہ) میں کھڑے ہوئے،اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھی کو روک لیا تھا مگر اپنے رسول اور مومنین کو اس پر غالب فرما دیا ہے۔اور یہ شہر میرے لیے دن کے ایک حصے میں (قتال کے لیے) حلال کیا گیا ہے۔پھر اس کے بعد قیامت تک کے لیے حرام ہے۔اس کے درخت نہ کاٹے جائیں،اس کا شکار نہ دوڑایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کو اٹھانا ہے،الا یہ کہ کوئی اس کا اعلان کرے (تو اٹھا لے)۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول! مگر اذخر گھاس (کی اجازت ہو) یہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مگر اذخر‘‘۔(اس کا کاٹنا مباح ہے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن المصفی نے ولید سے مزید بیان کیا کہ پھر ابوشاہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے،جو اہل یمن میں سے تھے،اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیجیئے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوشاہ کے لیے لکھ دو‘‘۔(ولید کہتے ہیں کہ) میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ’’ابوشاہ کے لیے لکھ دو‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: یہی خطبہ جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔