Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2019 (سنن أبي داود)

[2019]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (881 وسندہ حسن) وابن ماجہ (3006 وسندہ حسن) وشک ابن خزیمۃ (2891) في صحتہ وحسنہ الترمذي وصححہ الحاکم (1/466، 467) ووافقہ الذہبي، أم یوسف مسیکۃ وثقھا الترمذي والحاکم والذھبي بتصحیح حدیثھا وإبراہیم بن المھاجر بن جابر البجلي وثقہ الجمھور وھو حسن الحدیث فالسند حسن مشکوۃ المصابیح (2625)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاہَكَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًی بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنْ الشَّمْسِ فَقَالَ لَا إِنَّمَا ہُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْہِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے‘کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں۔یا کہا کوئی عمارت نہ بنا دیں جو آ پکو دھوپ سے بچائے؟ تو آ پﷺ نے فرمایا:’’نہیں‘یہ ٹھہرنے کا مقام ہے اور ہر شخص کے لیے ہے جو پہلے آجائے