Sunan Abi Dawood Hadith 2046 (سنن أبي داود)
[2046]صحیح
صحیح بخاری (1905) صحیح مسلم (1400)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ،قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًی،إِذْ لَقِيَہُ عُثْمَانُ،فَاسْتَخْلَاہُ،فَلَمَّا رَأَی عَبْدُ اللہِ أَنْ لَيْسَتْ لَہُ حَاجَةٌ, قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ! فَجِئْتُ،فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِجَارِيَةٍ بِكْرٍ! لَعَلَّہُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْہَدُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ, لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُول:ُ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ, فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ،وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ،وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ, فَعَلَيْہِ بِالصَّوْمِ, فَإِنَّہُ لَہُ وِجَاءٌ.
جناب علقمہ کا بیان ہے کہ میں منٰی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ملے پس عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو علیحدگی میں بلایا (اور ان کو نکاح کرنے کی ترغیب دی) لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہیں نکاح کی حاجت نہیں ہے۔تب عبداللہ نے مجھ سے کہا،علقمہ! ادھر آؤ۔میں حاضر ہو گیا (کیونکہ اب تخلیے کی ضرورت نہ رہی تھی) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کیا ہم تمہاری ایک کنواری لڑکی سے شادی نہ کرا دیں؟ (اس طرح) شاید تمہاری (جوانی کی طاقت) پھر لوٹ آئے۔تو عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ یہ کہتے ہیں حالانکہ میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے‘‘ جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ شادی کر لے۔بلاشبہ اس سے نظر نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے۔(دامن عفت پر داغ نہیں آتا) اور جو طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے،یہ اس کے (شہوانی) جذبات کو کمزور کر دیں گے۔‘‘