Sunan Abi Dawood Hadith 2056 (سنن أبي داود)
[2056]إسنادہ صحیح
رواہ البخاري (5106) ومسلم (1449)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ،قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا؟ قَالَتْ: فَتَنْكِحُہَا،قَالَ: أُخْتَكِ؟،قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ: أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟،قَالَتْ: لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ بِكَ،وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي،قَالَ: فَإِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِي،قَالَتْ: فَوَاللہِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ-أَوْ ذُرَّةَ, شَكَّ زُہَيْرٌ-بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ؟،قَالَ: بنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟،قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ: أَمَا وَاللہِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي, مَا حَلَّتْ لِي،إِنَّہَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ،أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاہَا ثُوَيْبَةُ،فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ،وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن میں راغب ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو کیا کروں؟‘‘ کہنے لگیں کہ آپ اس سے نکاح کر لیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیری بہن سے؟‘‘ بولیں: ہاں،آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تمہیں یہ پسند ہے؟‘‘ کہنے لگیں: میں کوئی آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں۔اور اس شراکت میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن اس خیر میں میری حصہ دار بنے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘ وہ کہنے لگیں،قسم اللہ کی! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے درہ یا ذرہ (حدیث کے راوی) زہیر کو شک ہے دختر ابوسلمہ کے لیے پیغام بھجوایا ہے۔آپ ﷺ نے کہا ’’ام سلمہ کی بیٹی کے لیے؟‘‘ کہنے لگیں: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’قسم اللہ کی! وہ اگر میری ربیبہ نہ بھی ہوتی جو کہ میری پرورش میں ہے،تو بھی میرے لیے حلال نہ ہو سکتی تھی کیونکہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی (رضاعی بھتیجی) ہے۔مجھے اور اس کے والد (ابوسلمہ) کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔سو مجھے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی پیش کش مت کرو۔‘‘