Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2057 (سنن أبي داود)

[2057]صحیح

صحیح بخاری (5239) صحیح مسلم (1445)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ،فَاسْتَتَرْتُ مِنْہُ،قَالَ: تَسْتَتِرِينَ مِنِّي،وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي،قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ،وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ،فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَحَدَّثْتُہُ،فَقَالَ: إِنَّہُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ افلح بن ابی القعیس میرے ہاں آئے تو میں نے ان سے پردہ کیا۔انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کرتی ہو،حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں؟ کہتی ہیں،میں نے کہا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: تم کو میری بھاوج نے دودھ پلایا ہے۔کہنے لگیں: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے،مرد نے نہیں پلایا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ بات بتائی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے،تمہارے پاس آ سکتا ہے۔‘‘