Sunan Abi Dawood Hadith 2075 (سنن أبي داود)
[2075]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ ہُرْمُزَ الْأَعْرَجُ،أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَہُ،وَأَنْكَحَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَہُ،وَكَانَا جَعَلَا صَدَاقًا،فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَی مَرْوَانَ, يَأْمُرُہُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَہُمَا،وَقَالَ فِي كِتَابِہِ: ہَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَہَی عَنْہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ.
عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج بیان کرتے ہیں کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے عبدالرحمٰن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا اور دونوں نے اس نکاح ہی کو حق مہر ٹھہرایا تھا۔تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہ ان کے مابین تفریق کرا دے۔انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ یہی وہ شغار ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔