Sunan Abi Dawood Hadith 2089 (سنن أبي داود)
[2089]صحیح
صحیح بخاری (4579، 6948)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،حَدَّثَنَاأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،حَدَّثَنَاالشَّيْبَانِيُّ،عَنْعِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَہُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ وَلَا أَظُنُّہُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،فِي ہَذِہِ الْآيَةِ:لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْہًا وَلَا تَعْضُلُوہُنَّ[النساء: 19]،قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ, كَانَ أَوْلِيَاؤُہُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِہِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِہَا،إِنْ شَاءَ بَعْضُہُمْ زَوَّجَہَا أَوْ زَوَّجُوہَا،وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوہَا،فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ((لا یحل لکم أن ترثوا النساء کرہا ولا تعضلوہن)) کی تفسیر میں فرمایا: جب کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کے وارث اس عورت کے اپنے ولی سے بھی زیادہ اس کے حقدار بن جاتے تھے۔اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو خود ہی اس سے نکاح کر لیتا یا جس سے وہ چاہتے اس کا نکاح کر دیتے تھے۔اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح ہی نہ کرتے تو اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔