Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2094 (سنن أبي داود)

[2094]إسنادہ حسن

رواہ البخاري (5137، 6946، 6971) ومسلم (1420)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِہَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِہِ زَادَ فِيہِ قَالَ: فَإِنْ بَكَتْ،أَوْ سَكَتَتْ, زَادَ بَكَتْ . قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ بَكَتْ بِمَحْفُوظٍ وَہُوَ وَہْمٌ فِي الْحَدِيثِ الْوَہْمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاہُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ؟ قَالَ: سُكَاتُہَا إِقْرَارُہَا.

محمد بن عمرو نے یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی اور اس نے کہا ((فإن بکت أو سکتت)) ’’اگر وہ رو پڑے یا خاموش رہے۔‘‘ اس نے ((بکت))کے لفظ کا اضافہ کیا (رو پڑے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ ((بکت)) محفوظ نہیں ‘ وہم ہے جو ابن ادریس سے ہوا ہے یا محمد بن علاء سے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعمرو ذکوان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ‘ وہ کہتی ہیں کہ (میں نے کہا) اے اﷲ کے رسول! کنواری لڑکی تو بات کرنے سے حیاء کرتی ہے۔آپ نے فرمایا ’’اس کا خاموشی رہنا ہی اس کا اقرار ہے۔‘‘