Sunan Abi Dawood Hadith 210 (سنن أبي داود)
[210]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (311)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاہِيمَ،أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَيْفٍ،قَالَ كُنْتُ أَلْقَی مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً،وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ،فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْہُ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ،فَتَنْضَحَ بِہَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَی أَنَّہُ أَصَابَہُ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ بہت زیادہ مذی آتی تھی اور اس بنا پر غسل بھی بہت زیادہ کرنا پڑتا تھا،لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کے لیے تمہیں وضو ہی کافی ہے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جو میرے کپڑے کو لگ جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جہاں تو محسوس کرے کہ کپڑے کو لگی ہے وہاں پانی کا ایک چلو لے کر چھڑک لیا کر،یہی کافی ہے۔‘‘