Sunan Abi Dawood Hadith 2114 (سنن أبي داود)
[2114]صحیح
وللحدیث شاھد عند النسائي (3360 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (3207)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ مَسْرُوقٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً،فَمَاتَ عَنْہَا،وَلَمْ يَدْخُلْ بِہَا،وَلَمْ يَفْرِضْ لَہَا الصَّدَاقَ،فَقَالَ: لَہَا الصَّدَاقُ كَامِلًا،وَعَلَيْہَا الْعِدَّةُ وَلَہَا الْمِيرَاثُ،فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَضَی بِہِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ.
جناب مسروق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی ‘ پھر وفات پا گیا جبکہ ان کا ملاپ نہ ہوا تھا اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا تھا (تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟) انہوں نے فرمایا اس عورت کے لیے پورا مہر ہے،اس پر عدت لازم ہے اور یہ وراثت کی بھی حقدار ہے۔(تب) معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (ایسے ہی) سنا تھا آپ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔