Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2116 (سنن أبي داود)

[2116]صحیح

وللحدیث شاھد صحیح عند ابن حبان (4089/4101) والحاکم (2/ 180 ح 2737) وغیرھما

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ خِلَاسٍ وَأَبِي حَسَّانَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِہَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْہِ شَہْرًا،أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ،قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيہَا: إِنَّ لَہَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِہَا, لَا وَكْسَ،وَلَا شَطَطَ،وَإِنَّ لَہَا الْمِيرَاثَ،وَعَلَيْہَا الْعِدَّةُ،فَإِنْ يَكُ صَوَابًا, فَمِنَ اللہِ،وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً, فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ،وَاللہُ وَرَسُولُہُ بَرِيئَانِ،فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ،فِيہِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ،فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ! نَحْنُ نَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَضَاہَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ،وَإِنَّ زَوْجَہَا ہِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ, كَمَا قَضَيْتَ. قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا،حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُہُ قَضَاءَ رَسُولِ اللہِ ﷺ.

عبداللہ بن عتبہ بن مسعود،سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کے بارے میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی گئی۔اور پھر وہ لوگ ایک مہینہ تک ان کے پاس چکر لگاتے رہے۔یا کہا کئی بار ان کے پاس آئے۔تو بلآخر یہ کہا: میری رائے اس میں یہ ہے کہ یہ عورت مہر کی حقدار ہے جیسے کہ اس طرح کی عورتوں کا حق مہر ہوتا ہے (مہر مثل) بغیر کسی کمی بیشی کے۔اور یہ میراث کی حقدار ہے اور اس پر عدت (وفات) بھی لازم ہے۔اگر میری یہ بات حق اور درست ہے تو اﷲ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ‘ اﷲ اور اس کے رسول دونوں اس سے بری ہیں۔چنانچہ قبیلہ اشجع کے لوگ کھڑے ہوئے ان میں جراح اور ابوسنان بھی تھے ‘ انہوں نے کہا: اے ابن مسعود! ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہی فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق اور اس کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی کے بارے میں فرمایا تھا ‘ جیسے کہ آپ نے کیا ہے۔راوی نے بیان کیا کہ اس سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بےحد خوشی ہوئی کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق ہوا ہے۔