Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2117 (سنن أبي داود)

[2117]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ الذُّہْلِيُّ, وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی, وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ, قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی،أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ: أَتَرْضَی أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ؟،قَالَ: نَعَمْ،وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا؟،قَالَتْ: نَعَمْ،فَزَوَّجَ أَحَدَہُمَا صَاحِبَہُ،فَدَخَلَ بِہَا الرَّجُلُ،وَلَمْ يَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا،وَلَمْ يُعْطِہَا شَيْئًا،وَكَانَ مِمَّنْ شَہِدَ الْحُدَيْبِيَةَ،وَكَانَ مَنْ شَہِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَہُ سَہْمٌ بِخَيْبَرَ،فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاةُ, قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ،وَلَمْ أَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا،وَلَمْ أُعْطِہَا شَيْئًا،وَإِنِّي أُشْہِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُہَا مِنْ صَدَاقِہَا سَہْمِي بِخَيْبَرَ،فَأَخَذَتْ سَہْمًا فَبَاعَتْہُ بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ أَبو دَاود: وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُہُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُہُ. وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِلرَّجُلِ ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاہُ قَالَ أَبو دَاود: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ ہَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَی غَيْرِ ہَذَا.

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے کہا: ’’کیا تم راضی ہو کہ فلاں عورت سے تمہاری شادی کر دوں؟ اس نے کہا: جی ہاں پھر آپ نے عورت سے پوچھا ’’کیا تو راضی ہے کہ فلاں مرد سے تیری شادی کر دوں؟‘‘ تو اس نے کہا: جی ہاں! چنانچہ آپ نے ان دونوں کی شادی کر دی۔اور پھر اس مرد نے اس سے صحبت کی مگر حق مہر مقرر نہ کیا اور نہ اسے کچھ دیا۔اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیبیہ میں شریک ہو چکے تھے اور شرکائے حدیبیہ کو خیبر میں حصہ ملا تھا۔جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میری شادی کر دی تھی مگر میں نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ اسے کچھ دیا تھا ‘ اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے مہر میں اپنا خیبر کا حصہ دیتا ہوں۔چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لیا اور پھر اسے ایک لاکھ میں فروخت کر دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابتدائے حدیث میں اس قدر اضافہ کیا اور اس کی حدیث زیادہ کامل ہے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بہترین نکاح وہی ہے جو زیادہ آسانی والا ہو۔‘‘ اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے کہا:،اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ حدیث ملحق ہے کیونکہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔