Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2129 (سنن أبي داود)

[2129]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (3355 وسندہ حسن) وابن ماجہ (1955 وسندہ حسن) ابن جریج صرح بالسماع عند النسائي فالسند حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَی صَدَاقٍ،أَوْ حِبَاءٍ،أَوْ عِدَّةٍ،قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَہُوَ لَہَا،وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَہُوَ لِمَنْ أُعْطِيَہُ،وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْہِ الرَّجُلُ ابْنَتُہُ أَوْ أُخْتُہُ.

عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے،وہ (اپنے) دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس عورت کا کسی سے نکاح ہو اور عقد نکاح سے پہلے جو کوئی مہر،عطیہ یا وعدہ کیا گیا ہو تو وہ سب اس عورت کا حق ہے۔اور جو عقد کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جس کو دیا جائے۔اور کسی کا سب سے عمدہ اکرام وہ ہے جو اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کیا جائے۔‘‘