Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2136 (سنن أبي داود)

[2136]صحیح

صحیح مسلم (1476)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ, وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ،عَنْ عَاصِمٍ،عَنْ مُعَاذَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا نَزَلَتْ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ[الأحزاب: 51] قَالَتْ مَعَاذَةُ: فَقُلْتُ لَہَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ, لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَی نَفْسِي.

معاذہ‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۃ الاحزاب کی آیت کریمہ ((ترجی من تشاء منہن وتؤوی إلیک من تشاء)) کے نازل ہو جانے کے بعد (بھی) ہم میں سے جس کی باری کا دن ہوتا اس سے اجازت لیا کرتے تھے (جب کسی دوسرے حرم میں جانے کی کوئی ضرورت ہوتی۔) معاذہ کہتی ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو کیا کہا کرتی تھیں؟ انہوں نے کہا: میں کہا کرتی تھی اگر یہ فیصلہ کرنا میرے ہی ذمے ہے تو پھر میں اپنے آپ پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتی۔