Sunan Abi Dawood Hadith 2146 (سنن أبي داود)
[2146]صحیح
سفیان بن عیینۃ والزھري صرحا بالسماع عند الحمیدي وسندہ قوي وللحدیث شاھد عند البیھقي (7/304) مشکوۃ المصابیح (3261)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ،عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللہِ،فَجَاءَ عُمَرُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَی أَزْوَاجِہِنَّ؟ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِہِنَّ،فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللہِ ﷺ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَہُنَّ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَہُنَّ،لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ.
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو۔‘‘ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ،رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: عورتیں اپنے شوہروں کے سر چڑھنے لگی ہیں۔پس آپ ﷺ نے ان کو مارنے کی رخصت دے دی۔تب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’محمد (ﷺ) کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں۔ایسے لوگ کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے ہمیں کہا کہ زہری کے شیخ کا نام عبداللہ بن عبداللہ ہی ہے (نہ کہ عبیداللہ۔)