Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2164 (سنن أبي داود)

[2164]حسن

انظر معاني الآثار (3/41 وسندہ صحیح) ابن إسحاق صرح بالسماع عند الحاکم (2/279) والمحاربي صرح بالسماع عندہ في روایۃ ابن حجر، انظر اتحاف المھرۃ (8/9)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی أَبُو الْأَصْبَغِ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ،عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ-وَاللہُ يَغْفِرُ لَہُ-أَوْہَمَ إِنَّمَا كَانَ ہَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ،وَہُمْ أَہْلُ وَثَنٍ مَعَ ہَذَا الْحَيِّ مِنْ يَہُودَ،وَہُمْ أَہْلُ كِتَابٍ،وَكَانُوا يَرَوْنَ لَہُمْ فَضْلًا عَلَيْہِمْ فِي الْعِلْمِ،فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِہِمْ،وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَہْلِ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ إِلَّا عَلَی حَرْفٍ وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ،فَكَانَ ہَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِہِمْ،وَكَانَ ہَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا،وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْہُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ،فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ, تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْہُمُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ،فَذَہَبَ يَصْنَعُ بِہَا ذَلِكَ،فَأَنْكَرَتْہُ عَلَيْہِ،وَقَالَتْ: إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَی عَلَی حَرْفٍ! فَاصْنَعْ ذَلِكَ،وَإِلَّا،فَاجْتَنِبْنِي،حَتَّی شَرِيَ أَمْرُہُمَا،فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّی شِئْتُمْ[البقرة: 223], أَيْ: مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ-يَعْنِي بِذَلِكَ: مَوْضِعَ الْوَلَدِ-.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اللہ مغفرت فرمائے۔انہیں وہم ہوا ہے۔دراصل قبیلہ انصار بت پرست لوگ تھے،اس یہودی قبیلے کے ساتھ رہتے تھے جو کہ اہل کتاب تھے۔اور انصار علم کی وجہ سے ان کی فضیلت کے معترف تھے اور اپنے اکثر کاموں میں ان کی پیروی کیا کرتے تھے۔اہل کتاب کا معاملہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی بیویوں سے ایک ہی انداز میں چت لٹا کر (یا پہلو کے بل سے) مجامعت کیا کرتے تھے۔اس طرح عورت بہت زیادہ پردے میں رہتی ہے۔ان انصاریوں نے بھی ان جیسا یہ عمل اختیار کیا ہوا تھا۔لیکن قبیلہ قریش والے اپنی عورتوں کو بری طرح پھیلاتے تھے اور طرح طرح سے متلذذ ہوتے تھے۔آگے سے،پیچھے سے اور چت لٹا کر۔جب مہاجرین مدینے میں آئے اور ان کے ایک آدمی نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی تو اس کے ساتھ اپنے اسی انداز میں صحبت کرنے لگا تو عورت نے بہت برا جانا اور کہنے لگی ہم سے ایک ہی انداز میں (چت لٹا کر یا پہلو کے بل سے) صحبت کی جاتی تھی،سو تم بھی اسی طرح کرو ورنہ مجھ سے الگ رہو حتیٰ کہ ان کا معاملہ بہت بڑھ گیا اور رسول اللہ ﷺ تک جا پہنچا۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا ((نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم)) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں،تو اپنی کھیتی میں جس طرح سے جی چاہے آؤ۔‘‘ آگے سے،پیچھے سے یا چت لٹا کر،لیکن جگہ وہی بچے والی ہو۔