Sunan Abi Dawood Hadith 2299 (سنن أبي داود)
[2299]صحیح
صحیح بخاری (1281، 1282) صحیح مسلم (1486)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ،أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ بِہَذِہِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ،قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوہَا أَبُو سُفْيَانَ،فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيہِ صُفْرَةٌ-خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُہُ-،فَدَہَنَتْ مِنْہُ جَارِيَةً،ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْہَا،ثُمَّ قَالَتْ: وَاللہِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ،غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ, أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ, إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا. قَالَتْ زَيْنَبُ: وَدَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ-حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوہَا-،فَدَعَتْ بِطِيبٍ،فَمَسَّتْ مِنْہُ،ثُمَّ قَالَتْ: وَاللہِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ،غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ-وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ-: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ, أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ, إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا. قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْہَا زَوْجُہَا،وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَہَا, أَفَنَكْحَلُہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا،مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا،كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا،ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ إِنَّمَا ہِيَ أَرْبَعَةُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ،وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاہِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ. قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْہَا زَوْجُہَا دَخَلَتْ حِفْشًا،وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِہَا،وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا،وَلَا شَيْئًا،حَتَّی تَمُرَّ بِہَا سَنَةٌ،ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ, حِمَارٍ،أَوْ شَاةٍ،أَوْ طَائِرٍ،فَتَفْتَضُّ بِہِ،فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ،ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِہَا،ثُمَّ تُرَاجِعُ-بَعْدُ-مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِہِ. قَالَ أَبو دَاود: الْحِفْشُ: بَيْتٌ صَغِيرٌ.
سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا (یہ رسول اللہ ﷺ کی ربیبہ تھیں) نے یہ درج ذیل تین حدیثیں بیان کیں۔(پہلی حدیث) زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی جبکہ ان کے والد ابوسفیان کی وفات ہو گئی تھی تو انہوں نے خوشبو منگوائی جس میں زردی تھی،وہ خلوق تھی یا کوئی اور،انہوں نے یہ لونڈی کو لگائی پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے رخساروں پر مل لیا اور کہا: قسم اللہ کی! مجھے خوشبو کی کوئی طلب اور ضرورت نہیں ہے مگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے،فرماتے تھے ’’کسی خاتون کے لیے حلال نہیں،جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو،کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کا اظہار کرے (اور زیب و زینت چھوڑے رہے) سوائے شوہر کے (کہ اس کے لیے) چار مہینے اور دس دن ہیں۔‘‘ (دوسری حدیث) زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئی جبکہ ان کا بھائی فوت ہو گیا تھا۔تو انہوں نے خوشبو منگوا کر لگائی اور پھر کہا: قسم اللہ کی! مجھے خوشبو کی کوئی طلب اور ضرورت نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا،آپ ﷺ منبر پر کھڑے فرما رہے تھے ’’کسی عورت کے لیے حلال نہیں،جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو،کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے الا یہ کہ شوہر ہو تو اس کے لیے (سوگ کے) چار ماہ دس دن ہیں۔(تیسری حدیث) زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اپنی والدہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا،بیان کرتی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اب اس کی آنکھ خراب ہے،کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں‘‘ اس نے یہ دو یا تین مرتبہ پوچھا آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا ’’نہیں‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں جب کہ جاہلیت میں عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔‘‘ حمید نے کہا: میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک چھوٹے سے گھروندے میں رہتی،بہت ہی خراب کپڑے پہنتی اور خوشبو تو کیا کسی چیز کو بھی ہاتھ نہ لگاتی تھی (طہارت کے لیے) حتیٰ کہ اس کیفیت میں سال گزر جاتا،پھر کوئی جانور لایا جاتا گدھا،بکری یا کوئی اور پرندہ تو وہ اسے اپنے شرمگاہ کے ساتھ مس کرتی اور پھر اکثر ایسے ہوتا کہ وہ جس چیز کو بھی شرمگاہ کے ساتھ مس کرتی تو وہ مر جاتی۔پھر وہ باہر نکلتی اور اسے مینگنی دی جاتی تو وہ اسے پھینکتی تھی۔اس کے بعد جو وہ چاہتی،خوشبو وغیرہ استعمال کرتی۔ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہ ((حفش)) کا معنی گھروندا ہے۔