Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 245 (سنن أبي داود)

[245]صحیح

صحیح بخاری (249) صحیح مسلم (317)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ سَالِمٍ،عَنْ كُرَيْبٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ،عَنْ خَالَتِہِ مَيْمُونَةَ،قَالَتْ: وَضَعْتُ ﷺ لِلنَّبِيِّ غُسْلًا يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ،فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ عَلَی يَدِہِ الْيُمْنَی،فَغَسَلَہَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا،ثُمَّ صَبَّ عَلَی فَرْجِہِ فَغَسَلَ فَرْجَہُ بِشِمَالِہِ،ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِہِ الْأَرْضَ فَغَسَلَہَا،ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ،وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَيَدَيْہِ،ثُمَّ صَبَّ عَلَی رَأْسِہِ وَجَسَدِہِ،ثُمَّ تَنَحَّی نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْہِ،فَنَاوَلْتُہُ الْمِنْدِيلَ،فَلَمْ يَأْخُذْہُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِہِ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاہِيمَ،فَقَالَ: كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا،وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَہُونَ الْعَادَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ قُلْتُ: لِعَبْدِ اللہِ بْنِ دَاوُدَ: كَانُوا يَكْرَہُونَہُ لِلْعَادَةِ؟ فَقَالَ: ہَكَذَا ہُوَ،وَلَكِنْ وَجَدْتُہُ فِي كِتَابِي ہَكَذَا.

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا۔آپ ﷺ غسل جنابت کرنا چاہتے تھے،آپ ﷺ نے برتن کو اپنے دائیں ہاتھ پر اوندھا کیا اور اسے دو یا تین بار دھویا۔پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور اسے دھویا۔پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا،اپنا چہرا مبارک اور ہاتھ دھوئے،پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا،پھر آپ ﷺ ایک طرف ہو گئے اور اپنے پاؤں دھوئے۔پھر میں نے آپ ﷺ کو رومال دیا مگر آپ نے نہیں لیا اور جسم سے پانی جھاڑنے لگے۔(اعمش کہتے ہیں) میں نے یہ بات ابراہیم نخعی سے ذکر کی (کہ غسل کے بعد جسم پونچھا جائے یا نہیں) تو اس نے کہا: صحابہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن عادت بنا لینے کو برا جانتے تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: مسدد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن داود سے کہا کہ صحابہ کرام (غسل کے بعد کپڑے سے جسم خشک کرنے کو) بطور عادت مکروہ جانتے تھے؟ کہا ایسے ہی ہے لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسے اس طرح پایا ہے۔