Sunan Abi Dawood Hadith 2675 (سنن أبي داود)
[2675]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3542)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی،أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ غَيْرُ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ،فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہِ،فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَہَا فَرْخَانِ،فَأَخَذْنَا فَرْخَيْہَا،فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ،فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ،فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ ہَذِہِ بِوَلَدِہَا،رُدُّوا وَلَدَہَا إِلَيْہَا. وَرَأَی قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاہَا
سیدنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی،اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے،ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے تو چڑیا آئی اور (بچوں کے اوپر اردگرد) منڈلانے لگی۔نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا ’’کس نے اس کو اس کے بچوں سے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچوں کو چھوڑ دو۔‘‘ (ایک دوسرے موقع پر) آپ ﷺ نے دیکھا کہ چیونٹیوں کے بڑے بل کو ہم نے جلا ڈالا ہے؟ آپ ﷺ نے پوچھا ’’اس کو کس نے جلایا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ہم نے جلایا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’آگ کے رب کے سوا کسی کو روا نہیں کہ آگ سے عذاب دے۔‘‘