Sunan Abi Dawood Hadith 2713 (سنن أبي داود)

[2713] إسنادہ ضعیف

ترمذی (1461)

صالح بن محمد بن زائدۃ: ضعیف (تقریب: 2885) و قال الھیثمي: وضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 274) و قال أیضًا: ضعفہ أکثر الناس (مجمع الزوائد 7/ 210)

والحدیث ضعفہ البیہقي (103/9)

انوار الصحیفہ ص 99

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ النُّفَيْلِيُّ الْأَنْدَرَاوَرْدِيُّ،عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ،قَالَ: أَبو دَاود: وَصَالِحٌ ہَذَا أَبُو وَاقِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ أَرْضَ الرُّومِ،فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ،فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْہُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ،عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ،فَأَحْرِقُوا مَتَاعَہُ،وَاضْرِبُوہُ. قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِہِ مُصْحَفًا،فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْہُ؟ فَقَالَ: بِعْہُ،وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ.

صالح بن محمد زائدہ کہتے ہیں کہ میں مسلمہ بن عبدالملک کی معیت میں رومی علاقے میں گیا تو ایک آدمی لایا گیا جس نے غنیمت میں خیانت کی تھی۔انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اس کے متعلق پوچھا،تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے تھے،آپ نے فرمایا ’’جب تم کسی کو پاؤ کہ اس نے غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا مال و اسباب جلا ڈالو اور اسے مارو۔‘‘ کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید کا ایک نسخہ پایا۔مسلمہ نے اس کے بارے میں جناب سالم سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اسے فروخت کرو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔