Sunan Abi Dawood Hadith 2910 (سنن أبي داود)

[2910]صحیح

صحیح بخاری (3058) صحیح مسلم (1351)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حِجَّتِہِ قَالَ وَہَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَی الْكُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبِ وَذَاكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَی بَنِي ہَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوہُمْ وَلَا يُبَايِعُوہُمْ وَلَا يُؤْوُوہُمْ قَالَ الزُّہْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مین نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کل کہاں اتریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے؟‘‘ پھر فرمایا ’’ہم خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔’’آپ ﷺ کی مراد وادی محصب تھی اور قریشیوں نے اس جگہ بنو ہاشم کے خلاف قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے رشتہ ناتا کریں گے ‘ نہ کچھ خریدیں بیچیں گے اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((خیف)) وادی کا نام ہے