Sunan Abi Dawood Hadith 2922 (سنن أبي داود)
[2922]صحیح
صحیح بخاری (4580)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِہِ تَعَالَی وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوہُمْ نَصِيبَہُمْ قَالَ كَانَ الْمُہَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ تُوَرَّثُ الْأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِہِ لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَی رَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَہُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ قَالَ نَسَخَتْہَا وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوہُمْ نَصِيبَہُمْ مِنْ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَہُ وَقَدْ ذَہَبَ الْمِيرَاثُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کریمہ ((والذین عاقدت أیمانکم فآتوہم نصیبہم)) کی تفسیر میں فرمایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو انصار کے وارث وہی (مہاجرین) بنتے تھے نہ کہ دیگر رشتہ دار۔یہ اس بنا پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے آپس میں بھائی چارہ قائم فرما دیا تھا۔پھر جب یہ آیت اتری ((ولکل جعلنا موالی مما ترک)) تو اس نے ((والذین عقدت أیمانکم فآتوہم نصیبہم)) کو منسوخ کر دیا۔مگر عام نصرت ‘ خیر خواہی اور تعاون کو قائم رکھا۔وہ ایک دوسرے کو وصیت بھی کر سکتے تھے ‘ جب کہ وراثت ختم کر دی گئی۔