Sunan Abi Dawood Hadith 2988 (سنن أبي داود)

[2988] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث الآتي (5063)

علي بن عبد: مجہول (تقریب: 4689)

وأصل الحدیث فی الصحیحین بدون ھذہ القصۃ

انوار الصحیفہ ص 108

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی،عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ،عَنْ أَبِي الْوَرْدِ،عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ،قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي،وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَہْلِہِ إِلَيْہِ؟ قُلْتُ: بَلَی،قَالَ: إِنَّہَا جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَ فِي يَدِہَا،وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَ فِي نَحْرِہَا،وَكَنَسَتِ الْبَيْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِيَابُہَا،فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ،فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيہِ خَادِمًا،فَأَتَتْہُ فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ،فَأَتَاہَا مِنَ الْغَدِ،فَقَالَ: ((مَا كَانَ حَاجَتُكِ؟)) فَسَكَتَتْ،فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللہِ،جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَتْ فِي يَدِہَا،وَحَمَلَتْ [ص:151] بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَتْ فِي نَحْرِہَا،فَلَمَّا أَنْ جَاءَكَ الْخَدَمُ أَمَرْتُہَا أَنْ تَأْتِيَكَ فَتَسْتَخْدِمَكَ خَادِمًا يَقِيہَا حَرَّ مَا ہِيَ فِيہِ،قَالَ: ((اتَّقِي اللہَ يَا فَاطِمَةُ،وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ،وَاعْمَلِي عَمَلَ أَہْلِكِ،فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ،وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ،وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ،فَتِلْكَ مِائَةٌ،فَہِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ)) قَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ،وَعَنْ رَسُولِہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،

ابن اعبد سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول ﷺ کی بات نہ بتاؤں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اﷲ ﷺ کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ پیار تھا۔میں نے کہا: ہاں بتائیے۔تو انہوں نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ہاتھوں پر نشان پڑ گئے ‘ پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے سینے پر نشان پڑ گئے ‘ گھر میں جھاڑو دیتیں تو کپڑے خراب ہو جاتے۔پھر نبی کریم ﷺ کے پاس لونڈیاں اور غلام آئے۔میں نے ان سے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جا کر کسی خادم کے متعلق کہیں (تو آپ کو سہولت مل جائے گی۔) چنانچہ وہ آئیں اور دیکھا کہ کئی باتیں کرنے والے آپ کے پاس بیٹھے ہیں ‘ اس پر آپ واپس آ گئیں۔رسول اﷲ ﷺ اگلے دن ان کے پاس آئے اور دریافت فرمایا ’’کیا کام تھا؟ تو وہ خاموش رہیں۔میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! میں بتائے دیتا ہوں۔یہ چکی چلاتی ہیں تو ان کے ہاتھوں پر نشان پڑ گئے ہیں۔پانی کی مشک اٹھا کر لاتی ہیں تو اس سے سینے پر نشان پڑ گئے ہیں۔اور اب آپ کے پاس لونڈیاں غلام آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی خدمت میں جائیں اور کوئی خادم طلب کر لیں جس سے انہیں ان کاموں کی مشقت میں آسانی ہو جائے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’فاطمہ! اﷲ سے ڈرو ‘ اپنے رب کا فریضہ ادا کرو اور اپنے گھر والوں کا کام کاج کیا کرو۔اور رات کو جب سونے لگو تو تینتیس بار ((سبحان اللہ)) ‘ تینتیس بار ((الحمد اللہ)) اور چونتیس بار ((اللہ اکبر)) کہہ لیا کرو ‘ یہ سو بار ہوا۔اور یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بڑھ کر ہے۔‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل سے اور اس کے رسول ﷺ سے (بہ دل و جان) راضی ہوں۔