Sunan Abi Dawood Hadith 2995 (سنن أبي داود)

[2995]صحیح

صحیح بخاری (2235)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّہْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللہُ تَعَالَی الْحِصْنَ ذُكِرَ لَہُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُہَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ لِنَفْسِہِ فَخَرَجَ بِہَا حَتَّی بَلَغْنَا سُدَّ الصَّہْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَی بِہَا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر آئے۔جب اﷲ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ کے سامنے صفیہ بنت حیی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوا ‘ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا جبکہ وہ ابھی دلہن تھیں۔پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں (ان کے صدمے کے ازالے اور معاشرے میں اونچا مقام دینے کے لیے) اپنے لیے منتخب فرما لیا۔آپ ﷺ اسے لے کر روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ہم سد صہباء کے مقام پر پہنچے تو وہ حلال (حیض سے پاک) ہو گئیں تو آپ نے ان کے ساتھ شب زفاف گزاری۔