Sunan Abi Dawood Hadith 3013 (سنن أبي داود)
[3013]حسن
وللحدیث شواھد منھا السابق (3012)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللہُ عَلَی نَبِيِّہِ ﷺ خَيْبَرَ قَسَمَہَا عَلَی سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَہْمًا جَمَعَ كُلُّ سَہْمٍ مِائَةَ سَہْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَہَا لِنَوَائِبِہِ وَمَا يَنْزِلُ بِہِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَہُمَا وَعَزَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ فَقَسَمَہُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَہُمَا وَكَانَ سَہْمُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِيمَا أُحِيزَ مَعَہُمَا
جناب بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خیبر عنایت فرما دیا تو آپ ﷺ نے اسے چھتیس حصوں پر تقسیم کیا۔ہر حصے میں سو حصے تھے۔چنانچہ ان میں سے آدھے آپ ﷺ کے اتفاقی اخراجات اور آپ ﷺ کے پاس آنے والے مہمانوں اور وفود کے لیے تھے یعنی قلعہ وطیحہ ‘ کتیبہ اور ان کے ساتھ ملحق اراضی وغیرہ اور باقی آدھے مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے ‘ یعنی قلعہ شق اور نطاہ اور ان کے مضافات۔اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ بھی انہی کے ملحقات و مضافات میں تھا۔