Sunan Abi Dawood Hadith 3215 (سنن أبي داود)

[3215]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (1713 وسندہ صحیح) ورواہ ابن ماجہ (1560 وسندہ صحیح) حمید بن ھلال صرح بالسماع عند أحمد (1/20) مشکوۃ المصابیح (1703)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَہُمْ،عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ ہِلَالٍ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ،قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ،فَقَالُوا: أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَہْدٌ! فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا،وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ. قِيلَ: فَأَيُّہُمْ يُقَدَّمُ؟ قَالَ: أَكْثَرُہُمْ قُرْآنًا.قَالَ: أُصِيبَ أَبِي –يَوْمَئِذٍ-عَامِرٌ،بَيْنَ اثْنَيْنِ،أَوْ قَالَ: وَاحِدٌ.

سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے روز انصاری لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ہم زخمی ہیں اور تھکے ہوئے بھی ‘ تو آپ ﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’قبریں کھودو اور کھلی کھلی بناؤ اور دو دو اور تین تین کو ایک ایک قبر میں دفنا دو۔‘‘ کہا گیا کہ آگے کسے کیا جائے؟ فرمایا ’’جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔‘‘ ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد عامر بھی اسی دن شہید ہو گئے تھے اور وہ دو آدمیوں کے ساتھ دفن ہوئے تھے یا کہا کہ ایک آدمی کے ساتھ۔