Sunan Abi Dawood Hadith 3274 (سنن أبي داود)
[3274]حسن
رواہ النسائي (3823 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (3273)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللہِ وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ وَمَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَہَا خَيْرًا مِنْہَا فَلْيَدَعْہَا وَلْيَأْتِ الَّذِي ہُوَ خَيْرٌ فَإِنَّ تَرْكَہَا كَفَّارَتُہَا قَالَ أَبُو دَاوُد الْأَحَادِيثُ كُلُّہَا عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِہِ إِلَّا فِيمَا لَا يَعْبَأُ بِہِ قَالَ أَبُو دَاوُد قُلْتُ لِأَحْمَدَ رَوَی يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُبَيْدِ اللہِ فَقَالَ تَرَكَہُ بَعْدَ ذَلِكَ وَكَانَ أَہْلًا لِذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ أَحَادِيثُہُ مَنَاكِيرُ وَأَبُوہُ لَا يُعْرَفُ
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے،وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں اور نہ اس میں قسم ہے اور نہ اللہ کی نافرمانی میں اور نہ قطع تعلقی میں۔اور جس نے قسم کھائی ہو اور پھر اس کے خلاف دوسرے پہلو میں زیادہ خیر دیکھے تو چاہیئے کہ قسم چھوڑ دے اور جو خیر ہو اس پر عمل کرے۔بلاشبہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سب احادیث میں یہی ہے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے ‘ مگر ان روایات میں (اس کے برعکس بیان ہوا ہے) جن کا کوئی اعتبار نہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا ‘ کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بعد میں چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اس کی احادیث منکر (ازحد ضعیف) ہیں اور اس کا باپ غیر معروف ہے۔