Sunan Abi Dawood Hadith 3282 (سنن أبي داود)
[3282]صحیح
صحیح مسلم (537)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ،حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي كَثِيرٍ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُہَا صَكَّةً! فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُہَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِہَا،قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا،قَالَ: أَيْنَ اللہُ؟،قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ،قَالَ: مَنْ أَنَا؟،قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللہِ،قَالَ: أَعْتِقْہَا, فَإِنَّہَا مُؤْمِنَةٌ.
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! میں نے اپنی لونڈی کو تھپڑ مارا ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے میرے لیے بہت برا قرار دیا۔میں نے عرض کیا: کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘ میں اسے آپ ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا ’’اﷲ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے کہا: آپ اﷲ کے رسول ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے آزاد کر دو بلاشبہ یہ مومن ہے۔‘‘