Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 338 (سنن أبي داود)

[338]إسنادہ حسن

وأخرجہ النسائي وصححہ الحاکم (178/1) علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبي وابن نافع حسن الحدیث، من رجال مسلم وغیرہ، ووثقہ الجمہور۔ وأخرجہ ابن السکن في صحیحہ من طریق أبي الولید الطیالسی عن اللیث عن عمرو بن الحارث وعمیرۃ بن ناجیۃ جمیعًا عن بکر بہ موصولاً کما فی التلخیص (156/1) وأخرجہ النسائي (434) بإسناد صحیح عن عطاء بن یسار بہ مرسلاً، وللحدیث طرق أخری، فالطریقان صحیحان المسند والمرسل واللہ أعلم۔ مشکوۃ المصابیح (533)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ،أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ،عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ،فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَہُمَا مَاءٌ،فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا،ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ،فَأَعَادَ أَحَدُہُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ،ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: ((أَصَبْتَ السُّنَّةَ،وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ)). وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: ((لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ)) قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ،يَرْوِيہِ عَنِ اللَّيْثِ،عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ،عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ((وَذِكْرُ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ))

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ان کے پاس پانی نہیں تھا۔انھوں نے پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لی،مگر ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز دہرا لی اور دوسرے نے نہ دہرائی۔پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اپنا واقعہ بتایا،تو آپ ﷺ نے اس سے،جس نے نماز نہیں دہرائی تھی،فرمایا ’’تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہارے لیے تمہاری نماز کافی ہو گئی۔‘‘ اور جس نے وضو کر کے نماز دہرائی تھی،اسے فرمایا ’’تمہارے لیے دہرا اجر ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن نافع کے علاوہ ایک دوسرے صاحب نے اسے لیث سے انہوں نے عمیرہ بن ابی ناجیہ سے انہوں نے بکر بن سوادہ سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ابوسعید کا ذکر محفوظ نہیں ہے اور یہ حدیث مرسل ہے۔