Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 337 (سنن أبي داود)

[337]صحیح

الأوزاعي سمعہ من عطاء وسمعہ من رجل عنہ وللحدیث طرق أخریٰ عند البیھقي (1/226، 227، فیہ بشر بن بکر وھو ثقہ) مشکوۃ المصابیح (532)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّہُ بَلَغَہُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ احْتَلَمَ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ قَتَلُوہُ قَتَلَہُمْ اللہُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص کو زخم لگ گیا،پھر اسے احتلام ہو گیا،تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔چنانچہ اس نے غسل کیا اور مر گیا۔رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’انہوں نے اس کو مار ڈالا،اللہ انہیں ہلاک کرے۔کیا جاہل کی شفاء سوال کر لینا نہیں ہے؟‘‘