Sunan Abi Dawood Hadith 3420 (سنن أبي داود)

[3420]إسنادہ حسن

عمہ ھو علاقۃ بن صحار رضي اللہ عنہ مشکوۃ المصابیح (2986)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ،عَنْ عَمِّہِ،أَنَّہُ مَرَّ بِقَوْمٍ،فَأَتَوْہُ،فَقَالُوا: إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ ہَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ،فَارْقِ لَنَا ہَذَا الرَّجُلَ،فَأَتَوْہُ بِرَجُلٍ مَعْتُوہٍ فِي الْقُيُودِ،فَرَقَاہُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً،وَكُلَّمَا خَتَمَہَا جَمَعَ بُزَاقَہُ ثُمَّ تَفَلَ،فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ،فَأَعْطَوْہُ شَيْئًا،فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ،فَذَكَرَہُ لَہُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: كُلْ،فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ،لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ.

جناب خارجہ بن صلت نے اپنے چچا (سیدنا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: تم اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے پاس سے خیر (قرآن اور ذکر اللہ) لے کر آئے ہو،چنانچہ ہمارے اس شخص پر دم کر دو۔پھر وہ لوگ ان کے پاس ایک مجنون (دیوانے) کو لائے جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔انہوں نے اسے تین دن تک صبح شام سورۃ فاتحہ کا دم کیا،وہ جب بھی اسے ختم کرتے تو اپنا لعاب جمع کرتے اور اس پر پھونک دیتے۔پھر وہ ایسے ہو گیا جیسے کہ بندھن سے کھول دیا گیا ہو۔ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور یہ سب بیان کیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کھا لو،قسم میری عمر کی! لوگ باطل جھاڑ پھونک سے کھاتے ہیں اور تم نے حق سچ دم سے کھایا ہے۔‘‘