Sunan Abi Dawood Hadith 343 (سنن أبي داود)
[343]إسنادہ حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/81) مشکوۃ المصابیح (1387)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْہَبٍ الرَّمْلِيُّ الْہَمْدَانِيُّ ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی الْحَرَّانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ح حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَہَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ يَزِيدُ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ فِي حَدِيثِہِمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِہِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَہُ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ثُمَّ صَلَّی مَا كَتَبَ اللہُ لَہُ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُہُ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَہَا وَبَيْنَ جُمُعَتِہِ الَّتِي قَبْلَہَا قَالَ وَيَقُولُ أَبُو ہُرَيْرَةِ وَزِيَادَةٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَيَقُولُ إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلَامَ أَبِي ہُرَيْرَةَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور بہترین کپڑے زیب تن کیے اور خوشبو بھی لگائی اگر میسر ہو تو،پھر جمعہ کے لیے آیا اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں،پھر (نفلی) نماز پڑھی جو اس کے لیے مقدر کی گئی،پھر خاموش رہا۔جب امام (خطبے کے لیے) نکلا،حتیٰ کہ اپنی نماز سے فارغ ہوا تو یہ اس کے لیے اس جمعے اور سابقہ جمعے کے مابین (صادر ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہے۔‘‘ (ابوسلمہ نے) کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ بلکہ مزید تین دن اور بھی۔(یعنی صرف جمعہ سے جمعہ تک،آٹھ دنوں کا کفارہ ہی نہیں،بلکہ تین دن مزید بھی،یوں گیارہ دن ہوئے اور کسر چھوڑ دیں تو 10 دن،کیونکہ) وہ کہا کرتے تھے کہ ہر نیکی دس گنا اجر کی حامل ہوتی ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابوسلمہ کی روایت زیادہ کامل ہے اور حماد نے اپنی روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام نقل نہیں کیا۔