Sunan Abi Dawood Hadith 3545 (سنن أبي داود)

[3545]صحیح

صحیح مسلم (1624)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَتْ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْہِدْ لِي رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَہَا غُلَامًا وَقَالَتْ لِي أَشْہِدْ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ إِخْوَةٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّہُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَہُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ ہَذَا وَإِنِّي لَا أَشْہَدُ إِلَّا عَلَی حَقٍّ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو اپنا غلام ہدیہ کر دیں اور میری خاطر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بھی بنائیں۔چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ فلاں کی دختر (اس کی اپنی بیوی عمرہ بنت رواحہ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو ایک غلام دوں اور اللہ کے رسول ﷺ کو گواہ بناؤں۔تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا اس کے اور بھائی ہیں؟‘‘ اس نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا ان سب کو بھی تو نے اس جیسا (غلام) دیا ہے جیسا اس کو دیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ درست نہیں ہے اور میں صرف حق کا گواہ بنتا ہوں۔“