Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 359 (سنن أبي داود)

[359] إسنادہ ضعیف

بکار بن یحیی: مجہول (تقریب: 736) وجدتہ: لم أعرفھا

انوار الصحیفہ ص 27

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْہَا امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا الْحَيْضُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَتَلْبَثُ إِحْدَانَا أَيَّامَ حَيْضِہَا ثُمَّ تَطَّہَّرُ فَتَنْظُرُ الثَّوْبَ الَّذِي كَانَتْ تَقْلِبُ فِيہِ فَإِنْ أَصَابَہُ دَمٌ غَسَلْنَاہُ وَصَلَّيْنَا فِيہِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَہُ شَيْءٌ تَرَكْنَاہُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَنْ نُصَلِّيَ فِيہِ وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ وَلَكِنَّہَا تَحْفِنُ عَلَی رَأْسِہَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ فَإِذَا رَأَتْ الْبَلَلَ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْہُ ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَی سَائِرِ جَسَدِہَا

جناب بکار بن یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی ‘ وہاں ان سے ایک قریشی عورت نے پوچھا کہ حیض والے کپڑوں میں نماز کا کیا حکم ہے؟ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حیض آتا تھا ‘ ہم یہ دن گزارتیں اور پھر پاک ہوتیں اور اپنے کپڑے کو دیکھتیں جس میں یہ دن گزارے ہوتے۔اگر اسے خون لگا ہوتا تو اسے دھو لیتیں اور پھر اس میں نماز پڑھتیں اور اگر اسے کچھ نہ لگا ہوتا تو اسے اسی طرح رہنے دیتیں اور اس میں نماز پڑھنے سے ہمارے لیے کچھ مانع نہ ہوتا تھا۔اور جس کے بال گوندھے ہوئے ہوتے تو جب کسی کو غسل (جنابت) کرنا ہوتا تو اپنے بال نہ کھولا کرتی بلکہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتی۔جب دیکھتی کہ بالوں کی جڑیں تر ہو گئی ہیں تو انہیں ملتی پھر باقی جسم پر پانی بہا لیتی۔