Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 360 (سنن أبي داود)

[360]إسنادہ حسن

ابن إسحاق صرح بالسماع عند الدارمي (778) وصححہ ابن خزیمۃ (276، وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَيْفَ تَصْنَعُ إِحْدَانَا بِثَوْبِہَا إِذَا رَأَتْ الطُّہْرَ أَتُصَلِّي فِيہِ قَالَ تَنْظُرُ فَإِنْ رَأَتْ فِيہِ دَمًا فَلْتَقْرُصْہُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ وَلْتَنْضَحْ مَا لَمْ تَرَ وَلْتُصَلِّ فِيہِ

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتیں ہیں کہ میں نے ایک عورت کو سنا وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھ رہی تھی کہ جب ہم میں سے کوئی پاک ہو تو اپنے کپڑے کا کیا کرے؟ کیا اس میں نماز پڑھ لیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے دیکھے اگر اس میں خون لگا ہو تو اسے پانی لگا کر کھرچے اور جس جگہ کچھ نظر نہ آتا ہو (مگر شبہ ہو تو) وہاں چھینٹے مارسیدہ اسماء بنے اور اس میں نماز پڑھ لے۔‘‘