Sunan Abi Dawood Hadith 3670 (سنن أبي داود)

[3670] إسنادہ ضعیف

ترمذی (3049) نسائی (5542)

أبو إسحاق مدلس وعنعن وعمرو بن شرحبیل لم یسمع من عمر

والحدیث السابق (الأصل: 3669) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 131

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِيُّ،أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ عَمْرٍو،عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْر،ِ قَالَ عُمَرُ: اللہُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً! فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيہِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ...[البقرة: 219], الْآيَةَ،قَالَ: فَدُعِيَ عُمَرُ،فَقُرِئَتْ عَلَيْہِ،قَالَ: اللہُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً! فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ: يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَی[النساء: 43]،فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُنَادِي: أَلَا لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ،فَدُعِيَ عُمَرُ،فَقُرِئَتْ عَلَيْہِ،فَقَالَ: اللہُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً! فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ: فَہَلْ أَنْتُمْ مُنْتَہُونَ[المائدة: 91]،قَالَ عُمَرُ: انْتَہَيْنَا.

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں ہمیں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔چنانچہ سورۃ البقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ((یسألونک عن الخمر والمیسر قل فیہما إثم کبیر)) ’’’’اے نبی!) لوگ آپ سے خمر (شراب) اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں ‘ تو کہہ دیجئیے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے (اور لوگوں کے لیے (کچھ) فائدہ بھی ہے ‘ لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے)۔‘‘ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت سنائی گئی۔انہوں نے کہا: اے اللہ! ہمیں خمر کے بارے میں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔چنانچہ سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ((یأیہا الذین آمنوا لا تقربوا الصلاۃ وأنتم سکاری)) ’’اے ایمان والو! تم اس وقت نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا منادی نماز کی اقامت کے وقت اعلان کیا کرتا تھا خبردار! کوئی شخص نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا: اے اللہ! ہمیں شراب کے بارے میں صاف صاف حکم بیان فرما دے۔چنانچہ سورۃ المائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی ((فہل أنتم منتہون)) ’’(یقیناً خمر حرام ہے اور شیطانی اعمال میں سے ہے) کیا تم ان سے باز آتے ہو؟‘‘ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم باز آ گئے۔