Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 380 (سنن أبي داود)

[380]صحیح

وانظر مسند حمیدی (944 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،وَابْنُ عَبْدَةَ فِي آخَرِينَ-وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبْدَة-أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةِ،أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّی قَالَ ابْنُ عَبْدَة: رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ قَالَ: اللہُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا،وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا)). ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْہِ،فَنَہَاہُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ،وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ،صُبُّوا عَلَيْہِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ)) أَوْ قَالَ: ((ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ)).

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی (دیہاتی) مسجد میں آیا،رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے،اس نے آ کر نماز پڑھی۔ابن عبدہ نے کہا کہ دو رکعتیں پڑھیں۔پھر یہ دعا کی۔((اللہم ارحمنی ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا)) ’’اے اللہ،مجھ پر اور محمد پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر۔‘‘ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تو نے تو وسیع اور کشادہ کو تنگ کر دیا ہے۔‘‘ (یعنی اللہ کی رحمت کو) پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ وہ مسجد کے کونے میں پیشاب کرنے لگا،لوگ جلدی سے اس کی طرف بڑھے،مگر آپ ﷺ نے ان کو روک دیا اور فرمایا ’’تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو دشواری والے نہیں۔اس (پیشاب) پر پانی کا ایک ڈول ڈال دو۔‘‘ راوی کو شک ہے کہ ((سجلا من ماء)) کے لفظ ادا کیے یا ((ذنوبا من ماء)) کے۔(معنی دونوں کا ایک ہی ہے)۔