Sunan Abi Dawood Hadith 3804 (سنن أبي داود)

[3804]صحیح

أخرجہ البیھقي (9/332) وانظر الحدیث السابق (460) وصححہ ابن حبان (97) مشکوۃ المصابیح (4247)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَلَا الْحِمَارُ الْأَہْلِيُّ وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاہَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْہَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوہُ فَإِنَّ لَہُ أَنْ يُعْقِبَہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُ

سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! کچلیوں والا درندہ ‘ پالتو گدھا اور کسی ذی (کافر) کا گرا پڑا مال حلال نہیں ہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس مال سے بے پروا ہو ‘ اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے اور وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اس کے لیے جائز ہے کہ ان سے اپنی مہمانی کے برابر کچھ لے لے۔‘‘