Sunan Abi Dawood Hadith 3806 (سنن أبي داود)
[3806] إسنادہ ضعیف
صالح بن یحیی بن مقدام:لین،وأبوہ مستور کما
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَی بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّہِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ خَيْبَرَ فَأَتَتْ الْيَہُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَی حَظَائِرِہِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاہَدِينَ إِلَّا بِحَقِّہَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَہْلِيَّةِ وَخَيْلُہَا وَبِغَالُہَا وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھا۔چنانچہ یہودی (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئے اور شکایت کی کہ لوگ (مسلمان) ان کے باڑوں پر چڑھ دوڑے ہیں (یعنی مال مویشی لوٹ لیے ہیں)۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! معاہد (ذمی) لوگوں کا مال حلال نہیں سوائے اس کے کہ شرعی اور اصولی حق ہو ‘ تم پر پالتو گدھے ‘ گھوڑے ‘ خچر ‘ کچلیوں والے درندے اور پنجے دار پرندے حرام ہیں۔‘‘