Sunan Abi Dawood Hadith 388 (سنن أبي داود)
[388] إسنادہ ضعیف
أم یونس وأم جحدر: لا یعرف حالھما (تقریب: 8782،8709)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَہُ كِسَاءً فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْغَدَاةَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ ہَذِہِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ فَقَبَضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی مَا يَلِيہَا فَبَعَثَ بِہَا إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ فَقَالَ اغْسِلِي ہَذِہِ وَأَجِفِّيہَا ثُمَّ أَرْسِلِي بِہَا إِلَيَّ فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُہَا ثُمَّ أَجْفَفْتُہَا فَأَحَرْتُہَا إِلَيْہِ فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہِيَ عَلَيْہِ
ام یونس بنت شداد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے میری نند ام جحدر عامریہ نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگ جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی،ہم پر ہمارا کپڑا تھا،اس کے اوپر ہم نے ایک اونی چادر ڈالی ہوئی تھی،جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اوپر والی چادر اوڑھ لی اور نماز کے لیے تشریف لے گئے اور فجر کی نماز پڑھی،پھر بیٹھ رہے۔ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خون کا داغ ہے،تو رسول اللہ ﷺ نے چادر کے اس حصے کو جس پر داغ تھا پکڑ لیا،اور ایک غلام کو دے کر میرے پاس بھیجا اور فرمایا ’’اسے دھو کر خشک کرو اور میرے پاس واپس بھیج دو۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنا پیالہ منگوایا،اس چادر کو دھویا اور خشک کر کے آپ ﷺ کے پاس واپس بھیج دیا۔رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ ﷺ وہ چادر اوڑے ہوئے تھے۔