Sunan Abi Dawood Hadith 391 (سنن أبي داود)
[391]صحیح
صحیح بخاری (46) صحیح مسلم (11)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَمِّہِ أَبِي سُہَيْلِ بْنِ مَالِكٍ،عَنْ أَبِيہِ،أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللہِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِہِ وَلَا يُفْقَہُ مَا يَقُولُ: حَتَّی دَنَا،فَإِذَا ہُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ)). قَالَ: ہَلْ عَلَيَّ غَيْرُہُنَّ؟ قَالَ: ((لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ)). قَالَ: وَذَكَرَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((صِيَامَ شَہْرِ رَمَضَانَ)). قَالَ: ہَلْ عَلَيَّ غَيْرُہُ؟ قَالَ: ((لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ)). قَالَ: وَذَكَرَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ. قَالَ: فَہَلْ عَلَيَّ غَيْرُہَا؟ قَالَ: ((لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ)). فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ يَقُولُ: وَاللہِ لَا أَزِيدُ عَلَی ہَذَا وَلَا أَنْقُصُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ))
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔اس کی آواز کی گنگناہٹ سنی جا رہی تھی مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہہ رہا ہے ‘ حتیٰ کہ (نبی کریم ﷺ کے) قریب آ گیا تو وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں۔‘‘ کہنے لگا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں الا یہ کہ تو نفل پڑھنا چاہے۔‘‘ راوی نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے رمضان کے روزوں کا ذکر فرمایا تو اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں الا یہ کہ تو نفل رکھنا چاہے۔‘‘ راوی نے کہا: اور آپ ﷺ نے اس کو صدقہ (زکوٰۃ) کا بھی بتایا تو اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں ‘ ہاں اگر تو نفل دینا چاہے۔‘‘ چنانچہ وہ آدمی واپس ہوا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کامیاب ہوا اگر ثابت قدم رہا۔‘‘