Sunan Abi Dawood Hadith 3916 (سنن أبي داود)

[3916]صحیح

صحیح بخاری (5756) صحیح مسلم (2224)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ قَوْلُہُ ہَامَ قَالَ كَانَتْ الْجَاہِلِيَّةُ تَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِہِ ہَامَةٌ قُلْتُ فَقَوْلُہُ صَفَرَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا صَفَرَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ ہُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ فَكَانُوا يَقُولُونَ ہُوَ يُعْدِي فَقَالَ لَا صَفَرَ

محمد بن راشد نے ((ہام)) کی وضاحت میں کہا: اہل جاہلیت سمجھتے تھے کہ مردہ جب دفن کیا جاتا ہے تو اس کی قبر سے ایک الو نکلتا ہے۔((صفر)) کے متعلق پوچھا تو کہا: اہل جاہلیت (اس مہینہ) صفر کو منحوس سمجھتے تھے،تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نفی فرما دی۔محمد بن راشد نے کہا: ہم نے کئی لوگوں سے سنا ہے کہ اس سے مراد ’’پیٹ کا درد‘‘ ہے اور وہ اسے متعدی سمجھتے تھے تو فرمایا گیا کہ ’’کوئی صفر نہیں۔‘‘