Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 398 (سنن أبي داود)

[398]صحیح

صحیح بخاری (541) صحیح مسلم (647)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي الظُّہْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَذْہَبُ إِلَی أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ وَكَانَ لَا يُبَالِي تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِلَی شَطْرِ اللَّيْلِ قَالَ وَكَانَ يَكْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَہَا وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَمَا يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَہُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُہُ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيہَا مِنْ السِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ ہم میں سے ایک شخص مدینہ سے باہر کی آبادی میں جا کر واپس آ جاتا اور سورج ابھی زندہ ہوتا (یعنی صاف اور نمایاں ہوتا) (ابوالمنہال نے کہا) اور مغرب کا وقت میں بھول گیا ہوں اور عشاء کی نماز میں آپ تہائی رات تک تاخیر کی پروا نہ کرتے تھے۔پھر کہا،آدھی رات تک۔اور کہا کہ آپ عشاء سے پہلے سو جانے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے ایک اپنے ہم نشین کو جسے وہ جانتا ہوتا پہچان سکتا تھا۔اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک قرآت فرماتے تھے۔