Sunan Abi Dawood Hadith 4017 (سنن أبي داود)
[4017]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (2794 وسندہ حسن) ورواہ ابن ماجہ (1920 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3117)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی نَحْوَہُ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْہَا وَمَا نَذَرُ قَالَ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّہَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّہَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا قَالَ اللہُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْہُ مِنْ النَّاسِ
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے وہ دادا (معاویہ بن حیدہ) سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ہمارے ستروں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ‘ کیا اختیار کریں اور کیا چھوڑیں؟ (یعنی کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی شرمگاہ (اور ستر) کی حفاظت کرو ‘ صرف بیوی یا لونڈی سے اجازت ہے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ آپس میں ملے جلے بیٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جہاں تک ہو سکے کوئی تیرا ستر ہرگز نہ دیکھے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جب کوئی اکیلا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’لوگوں کی نسبت اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔‘‘