Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4052 (سنن أبي داود)

[4052]صحیح

صحیح بخاری (5817) صحیح مسلم (556)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ الزُّہْرِيُّ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ صَلَّی فِي خَمِيصَةٍ لَہَا أَعْلَامٌ،فَنَظَرَ إِلَی أَعْلَامِہَا،فَلَمَّا سَلَّمَ, قَالَ: اذْہَبُوا بِخَمِيصَتِي ہَذِہِ إِلَی أَبِي جَہْمٍ, فَإِنَّہَا أَلْہَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي،وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِہِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَہْمٍ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَانِمٍ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک منقش اونی چادر میں نماز پڑھی۔آپ ﷺ کی نظر اس کے نقوش پر پری تو جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا ’’میری یہ منقش چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ ‘ اس نے مجھے ابھی نماز کے دوران میں مشغول کر دیا تھا میرے لیے سادہ (انبجانی چادر) چادر لے آؤ۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجہم بن حذیفہ ‘ بنو عدی بن کعب بن غانم کے فرد تھے۔