Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4112 (سنن أبي داود)

[4112]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (2778 وسندہ حسن) نبھان مولٰی أم سلمۃ: وثقہ الذھبي فی الکاشف و الترمذي و ابن حبان و الحاکم بتصحیح حدیثہ فحدیثہ لا ینزل عن درجۃ الحسن مشکوۃ المصابیح (3116)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نَبْہَانُ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَعِنْدَہُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ احْتَجِبَا مِنْہُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللہِ أَلَيْسَ أَعْمَی لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِہِ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ خَاصَّةً أَلَا تَرَی إِلَی اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَہُ

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں موجود تھی جبکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے۔اور یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ ہمیں پردے کے احکام دے دیے گئے تھے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس سے پردہ کرو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہے ‘ ہمیں دیکھتا نہیں اور پہچانتا بھی نہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تو کیا تم بھی اندھی ہو ‘ تم اسے نہیں دیکھتی ہو؟!‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حکم ازواج نبی کریم ﷺ کے خاص تھا۔جبکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارنے کا کہا گیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا تھا: ’’ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو ‘ وہ نابینا آدمی ہے ‘ تم اس کے ہاں اپنے کپڑے اتار سکو گی۔‘‘