Sunan Abi Dawood Hadith 4115 (سنن أبي داود)
[4115] إسنادہ ضعیف
حبیب عنعن وشیخہ وہب مولی أبي أحمد: مجہول (تقریب التہذیب: 7486)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ وَہْبٍ مَوْلَی أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْہَا وَہِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد مَعْنَی قَوْلِہِ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ يَقُولُ لَا تَعْتَمُّ مِثْلَ الرَّجُلِ لَا تُكَرِّرُہُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ اس کے ہاں آئے اور وہ سر پر اوڑھنی لپیٹ رہی تھیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ایک بل دو،دو نہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مفہوم یہ ہے کہ اوڑھنی کو اس طرح مت لپیٹے کہ مردوں کی پگڑی محسوس ہو۔کپڑے کو دو بل مت دے۔