Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4131 (سنن أبي داود)

[4131]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (4260 وسندہ حسن) روایۃ بقیۃ عن بحیر صحیحۃ لأنھا من کتاب مشکوۃ المصابیح (505)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدٍ قَالَ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَہْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ أَتَرَاہَا مُصِيبَةً قَالَ لَہُ وَلِمَ لَا أَرَاہَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي حِجْرِہِ فَقَالَ ہَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَ الْأَسَدِيُّ جَمْرَةٌ أَطْفَأَہَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ الْمِقْدَامُ أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّی أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَہُ ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي قَالَ أَفْعَلُ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللہِ ہَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ لُبْسِ الذَّہَبِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللہِ ہَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللہِ ہَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْہَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَاللہِ لَقَدْ رَأَيْتُ ہَذَا كُلَّہُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ قَالَ خَالِدٌ فَأَمَرَ لَہُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْہِ وَفَرَضَ لِابْنِہِ فِي الْمِائَتَيْنِ فَفَرَّقَہَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِہِ قَالَ وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَہُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِہِ

جناب خالد بن معدان سے روایت ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکرب،عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہل قنسرین میں سے تھا،سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے۔معاویہ نے مقدام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما وفات پا گئے ہیں؟ تو مقدام نے ((انا للہ وانا الیہ راجعون)) پڑھا۔تو ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا: ’’یہ (حسن) مجھ سے ہے اور حسین علی سے!‘‘ اسدی آدمی نے کہا: ((جمرۃ أطفأہا اللہ عز وجل))۔مقدام نے کہا: مگر (میں تو ایسی بات نہیں کہتا جو اس اسدی نے کہی ہے) میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا اور وہ کچھ سناؤں گا جو تمہیں برا لگے۔پھر کہا: اے معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو تردید کر دینا۔معاویہ نے کہا: ایسے ہی کروں گا۔مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا ہاں۔مقدام نے پھر کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تمہیں خبر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے روکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں سیدنا مقدام نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں،کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے روکا ہے؟ کہا ہاں۔مقدام نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھا ہے۔اے معاویہ! اس پر معاویہ نے کہا: اے مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تجھ سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا۔خالد بن معدان نے بیان کیا کہ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام کے لیے اس قدر انعام کا حکم دیا جو اس کے دوسرے دو ساتھیوں کے لیے نہیں تھا اور ان کے بیٹے کے لیے دو سو والوں میں حصہ مقرر کر دیا۔چنانچہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔مگر اسدی نے جو وصول کیا اس میں سے کسی کو کچھ نہ دیا۔معاویہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام کھلے ہاتھ کے سخی آدمی ہیں اور اسدی اپنے مال کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔